حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزاتِ علمیہ کے طلبہ اور فارغ التحصیل علما کے امور کے سرپرست حجت الاسلام والمسلمین علی قنواتی نے قم میں حوزاتِ علمیہ فاؤنڈیشن برائے ممتازین کی میزبانی میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس مسئلے پر جامع اور اسٹریٹجک نقطۂ نظر اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
یہ اجلاس انسانی وسائل کی رہنمائی کے اسٹریٹجک ہیڈکوارٹر کے اجلاسِ عمومی کی دوسری نشست تھی جس میں حقیقی اور قانونی اراکین نے بالمشافہ اور آن لائن شرکت کی۔ اجلاس کا موضوع انتظامی امور میں "نمایاں صلاحیتوں کے حامل افراد کی تربیت اور تنظیم" تھا۔
حجت الاسلام والمسلمین قنواتی نے کہا: طلبہ اور علما کی تنظیم و رہنمائی، بالخصوص اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد اور حکمرانی کے مختلف شعبوں سے اس کے تعلق کے تناظر میں، حوزہ علمیہ کے بنیادی ترین مسائل میں سے ایک ہے۔ اس مقصد کا حصول حوزوی نظاموں اور پروگراموں کی افادیت میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔

انہوں نے اس موضوع کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: طلبہ اور علما کی تنظیم و رہنمائی حوزہ علمیہ کے بنیادی مسائل میں شامل ہے۔ اس مقصد کے حصول سے حوزوی نظاموں اور پروگراموں کی افادیت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ لہٰذا اس معاملے کو جامع اور اسٹریٹجک نقطۂ نظر کے ساتھ آگے بڑھانے اور اس سلسلے میں حوزہ علمیہ کے مفکرین اور بزرگ علما کی آرا سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔
حجت الاسلام والمسلمین قنواتی نے مزید کہا: حوزہ علمیہ قم کے طلبہ اور فارغ التحصیل علما کی صورتِ حال سے متعلق پیش کردہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسے افراد کی ایک قابلِ ذکر تعداد موجود ہے جنہوں نے حوزوی تعلیم مکمل کر رکھی ہے۔ ان کے لیے ان کی صلاحیتوں کے مطابق کردار اور مقام متعین کیے جانے چاہییں۔ اس کے باوجود تبلیغ، تدریس، تحقیق، انتظامی امور اور ثقافتی و سماجی سرگرمیوں جیسے شعبوں میں اب بھی افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا: یہ صورتِ حال حوزہ علمیہ کی انسانی صلاحیتوں کی شناخت، رہنمائی، بروئے کار لانے اور ان کی معاونت کے لیے ایک مربوط نظام تشکیل دینے کی ضرورت کو مزید بڑھا دیتی ہے۔










آپ کا تبصرہ